ہوناور:26؍جون(ایس اؤ نیوز) کاسرکوڈ کے ٹونکا میں پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کی دوبارہ شروعات کرنا ہائی کورٹ کی توہین ہے۔ بی جے پی کی حکومت صرف کمپنی کو فائدہ پہنچانےکےلئے بندرگاہ کا منصوبہ نافذ کررہی ہے۔ ماہی گیروں پر پولس فورس کی طاقت سے ظلم و زوراور زبردستی کررہی ہے ، اس کے خلاف ضلع بھرمیں سخت احتجاج کیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان ماہی گیر قومی اسوسی ایشن کے ریاستی صدر راما موگیر نے کیا ہے۔
اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئےراما موگیر نے کہاکہ بندرگاہ کی تعمیر کو لے کر ہائی کورٹ میں سنوائی چل رہی ہے۔ تعمیرات پر روک لگایاگیا ہے۔ اور ہائی کورٹ کا یہ بھی حکم ہے کہ بندرگاہ پر موجود فوریسٹ زمین پر کچھ بھی نہ کیا جائے ۔ اس کے باوجود اقتدار کے غرور میں ریاستی حکومت عوام مخالف اور ماہی گیر مخالف پالیسی پر عمل پیرا ہے ہم اس کی کڑی مذمت کرتےہیں اور اس بات کا انتباہ دیتے ہیں کہ اگر ریاستی حکومت ہمارے مطالبات کو منظور نہیں کرے گی تو لازماً قومی و ریاستی لیڈران کے ساتھ ضلع بھر میں ماہی گیر سخت احتجاج کریں گے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر کام جاری رکھا گیا تو آئندہ کے حالات کے لئے ضلعی انتظامیہ اور پولس محکمہ ذمہ دار ہوگا۔
راما موگیر نے کہا کہ ریاستی حکومت اپنے افسران اور پولس کے تعاون سے بندرگاہ کے کنارے بسے ہوئے ماہی گیروں کے گھروں اور ناریل کے درختوں کو جے سی بی مشینوں کے ذریعے اکھاڑ پھینک رہی ہے۔ یہ ظلم وجبر برداشت نہیں کیاجائےگا۔ حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب بندرگاہ کی تعمیر کی مخالفت خود ماہی گیر کررہے ہیں تو پھر کیسے اس سے ماہی گیروں کو فائدہ ہوگا۔ راما موگیر نے الزام لگایا کہ بندرگاہ کی تعمیر سے سرکار ماہی گیروں کو نہیں بلکہ پرائیویٹ کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کام کررہی ہے۔
کاسرگوڈ سے بندرگاہ تک 100کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کی جارہی سڑک کے متعلق راما موگیر نے کہاکہ مجوزہ سڑک سے عوام کو کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے بلکہ بندرگاہ کی تعمیر کرنے والی پرائیویٹ کمپنی کو سہولت مہیا کرنے کے لئے سڑک تعمیر کی جارہی ہے۔